We have heard about GDP in many places, and many of us do not know it.
In today’s article, we will try to tell you what GDP actually is. I am Faisal Butt, and you are watching Pineviews. The development of any country depends on its GDP. GDP, which is called Gross Domestic Product, was developed in Russia in 1934 and after that it became very important for every country.
If we look at the definition of GDP, its definition is as follows: All final goods and services, that is, all those products of the country that are finally sold and whose money is included in the country’s GDP. For example, if you want to buy a car from the upmarket,
the money you pay to buy the car is included in the country’s GDP. But it is not necessary that you buy anything from the upmarket, and the money is included in the GDP. For example, if you go to buy a used car from the upmarket, the money is included in the GDP.
It will not be included because that money will go to the person from whom you are buying the car; that is, if you buy anything new while living in your country,
you can say that it will be included in the GDP. The GDP of a country depends on three things: its agriculture, industry, and services. The imports and exports of any country can also be included in its GDP. The more exports a country has, the higher its GDP will be. In addition,
for example, if China sets up an industry in Pakistan, the revenue generated from it will be included in Pakistan’s GDP. And if Pakistan invests in China and sets up a factory there, the revenue it receives will be included in China’s GTP. The GDP of any country can be both negative and positive. For example, Pakistan exports one lakh to China and on the contrary,
China exports one and a half lakh to Pakistan. If we take one lakh If we subtract from 150,000, Pakistan’s GTP will be minus 50,000 and similarly China’s GDP will be plus 50,000. The higher the purchasing power of the people living in any country,
the higher the GDP of that country can be. Finally, we can say that the more sales a country has, that is, the more revenue it generates, the more its GDP will increase. Friends, I hope I have added to your information for encouragement. Thenku
جی ڈی پی کیا ہے؟
جی ڈی پی کیا ہے ہم نے بہت سی جگہ پر سنا اور ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے اج کی ویڈیو میں ہم اپ کو یہی بتانے کی کوشش کریں گے کہ جی ڈی پی اصل میں ہے کیا میں ہوں فیصل بٹ اور اپ دیکھ رہے ہیں پائن ویوز کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کے جی ڈی پی سے ہی ہوتا ہے جی ڈی پی جسے گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ کہا جاتا ہے اس کی ڈیویلپمنٹ 1934 میں رشیا سے ہوئی اور اس کے بعد یہ ہر ملک کے لیے بہت اہمیت کا حامل بنا جی ڈی پی کی ڈیفینیشن کو دیکھا جائے تو اس کی ڈیفینیشن کچھ یوں ہے ال فائنل گڈز اینڈ سروسز یعنی ملک کی وہ تمام پروڈکٹس جو فائنلی سیل ہو جائے اور جس کا پیسہ ملک کی جی ٹی پی پہ شامل ہو جاتا ہے مثال کے طور پر اگر اپ مارکیٹ سے گاڑی لینے چاہتے ہیں تو جو پیسہ اپ گاڑی خریدنے کے لیے دیتے ہیں وہ ملکی جی ڈی پی میں شامل ہو جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ اپ مارکیٹ سے کچھ بھی خریدیں اور اس کا پیسہ جی ڈی پی میں شامل ہو جائے مثلا اگر اپ مارکٹ سے یوزڈ گاڑی لینے جاتے ہیں تو اس کا پیسہ جی ڈی پی میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ وہ پیسے وہ اس بندے کو چلے جائیں گے جس سے اپ گاڑی خرید رہے ہوتے ہیں یعنی اپ اپنے ملک میں رہتے ہوئے کچھ بھی نئی چیز خریدیں گے تو اپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ جی ڈی پی میں شامل ہوگی ملک کی جی ڈی پی تین چیزوں پر ڈیپینڈ کرتی ہے اس کا ایگریکلچر انڈسٹری اور سروس کسی بھی ملک کی امپورٹ اور ایکسپورٹ بھی اس کے جی ڈی پی میں شامل ہو سکتی ہے جس ملک کی جتنی زیادہ ایکسپورٹس ہوں گی اس کا جی ڈی پی اتنا ہی زیادہ ہوگا اس کے علاوہ مثال کے طور پر اگر چائنہ پاکستان میں کوئی انڈسٹری لگاتا ہے اور اس سے جو ریوینیو جنریٹ ہوتا ہے اس کا ریوینیو پاکستان کی جی ڈی پی میں شامل ہوگا اور اگر پاکستان چائنہ میں انویسٹ کرتا ہے اور وہاں پر فیکٹری لگاتا ہے اور اسے حاصل ہونے والا ریوینیو چائنہ کی جی ٹی پی میں شامل ہوگا کسی بھی ملک کی جی ڈی پی نیگیٹو اور پوزیٹو دونوں میں جا سکتی ہے مثال کے طور پر پاکستان ایک لاکھ کی ایکسپورٹس چائنہ میں کرتا ہے اور اس کے برعکس چائنہ ڈیڑھ لاکھ کی ایکسپورٹس پاکستان میں کرتا ہے اگر ہم ایک لاکھ کو ڈیڑھ لاکھ سے مائنس کریں تو پاکستان کا جی ٹی پی مائنس 50 ہزار نکلے گا اور اسی طرح چائنہ کا جی ڈی پی پلس 50 ہزار نکلے گا کسی بھی ملک میں رہنے والے لوگوں کی بائنگ پاور جتنی زیادہ ہوگی اس ملک کا جی ڈی پی اتنا ہی زیادہ ہو سکتا ہے فائنلی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی جتنی زیادہ سیل ہوگی یعنی جتنا زیادہ ریوینیو جنریٹ ہوگا اس کا جی ڈی پی اتنا ہی زیادہ بڑھے گا دوستو امید ہے میں نے اپ کی معلومات میں اضافہ کیا ہوگا حوصلہ افزائی کے لیے

